شفاعت تو اللہ نے نبی کے ہاتھ میں بھی نہیں رکھی اور قرآن میں کئی مقامات پر واضح فرما دیا کہ روز قیامت گناہگاروں کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔
معجزوں کے قصے اور کہانیاں سنانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے غوث اعظم کے نام سے من گھڑت واقعات بنا رکھے ہیں۔
قرآن میں آتا ہے کہ اللہ حضرت عیسی جیسے جلیل القدر نبی سے پوچھے گا کہ کیا ہم نے تمہیں کہا تھا کہ تم خدا کے بیٹے بن جاؤ؟ جواب میں عیسی علیہ السلام فرمائیں گے کہ اے میرے رب، میں تو تمہارا بندہ ہوں، میں نے ان لوگوں سے ہرگز نہ کہا تھا کہ مجھے خدا کا بیٹا کہو۔ یہ ان کا اپنا قصور ہے۔ پھر اللہ ان لوگوں سے سختی سے جواب طلبی کرے گا اور انہیں و اصل جہنم کردے گا۔
جب حضرت عیسی سے سوال ہوسکتا ہے تو پھر کیا علی ہجویری اور عبدالقادر جیلانی سے اللہ نہیں پوچھے گا کہ تم مشکل کشا کیسے ہوگئے؟
جواب میں وہ بھی وہی کہیں گے جو عیسی علیہ السلام نے کہا۔
ڈرو اس وقت سے جب اللہ تمہارے ساتھ بھی وہی سلوککرے گا جو اس نے دوسرے مشرکین کے ساتھ کیا!!! ا