عَنِ ابْنِ أَبِیْ نُعْمٍ، قَالَ: کُنْتُ شَاہِدًا لِابْنِ عُمَرَ، وَسَأَلَہٗ رَجُلٌ عَنْ دَمِ الْبَعُوْضِ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ:انْظُرُوْا إِلٰی ہٰذَا، یَسْأَلُنِيْ عَنْ دَمِ الْبَعُوْضِ، وَقَدْ قَتَلُوْا ابْنَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: ہُمَا رَیْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْیَا۔
ترجمہ: ’’ابن ابی نعیمؒ روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا، ایک شخص نے آپ ؓ سے مچھر کے خون کے بارے میں دریافت کیا (کہ اگر محرم کے لباس کو لگ جائے تو کیا حکم ہے؟) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ: اہلِ عراق میں سے ہوں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص کو دیکھو! یہ مجھ سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھ رہا ہے، حالانکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے (نواسے) کو شہید کرڈالا، میں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ: یہ (حسن و حسین) دونوں میرے دنیا کے پھول ہیں۔‘‘