صرف اللہ کی محبت ہی کامل ہے#
Write your introduction here...
صرف اللہ کی محبت ہی کامل اکمل ہے
اقصی فاطمہ کے قلم سے
اسلام علیکم ! آج ہم بات کریں گے اللہ کی محبت کی۔ موجودہ دور میں اپنی زندگی کے تجربات اور محنت مشقت کے بعد بالآخر ہم میں سے چند لوگ یہ جاننے میں کامیاب ہو چکے ہیں کہ فقط اللہ رب العزت کی محبت ہی کامل، سچی اور پاک ہے ، جب کہ کچھ کا جاننا باقی ہے۔ اب آتے اس سوال کی طرف کہ آخر کیسے ؟؟؟
تو سب سے پہلے ہمیں اپنے محبت کے بناے ہوئے پیمانوں کو چھوڑ کر اللہ کی محبت کو سمجھنا اور جاننا ہو گا
" اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے کام لیا کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کیساتھ ہے "
" صابروں کو ہی ان کا ثواب بھر پور دیا جائے گا " ( الزمر 10)
اللہ سبحان و تعالی نے کہا، صبر کرو، مگر انسان جلد باز اور نادان ہے ، اللہ سبحان و تعالٰی کی آیات میں چھپی آسانیاں سمجھ نہیں پاتا
" کہہ دواے میرے بندوں، جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، بیشک اللہ سب گناہ بخش دے گا، وہ بخشنے والا رحم والا ہے "
معاف کرنا، اعمال سے بڑھ کر عطا کرنا اللہ رب العزت کی صفت ہے ، مگر ہمیں اللہ کی پہچان ہی گناہ، ثواب، جنت، جہنم سے کروائی گئی اور بد قسمتی کا عالم تو یہ ہے کہ ہم کبھی اللہ کو جاننے کی راہ پر نکلے ہی نہیں، نماز ر نہیں پڑھی تو یہ عذاب آگیا، یہ اللہ نہیں ہے، یہ ہماری پست اور محدود سوچ ہے ، دوچار بار دعامانگنے سے قبول نہیں ہوئی تو دعامانگنا ہی چھوڑ دی، روز گار نہیں مل رہا کیوں کہ بندش ہے ، بے شک
یہ سچ ہو گا کہ لوگوں کی حاسد سوچ اور نگاہیں آپ کے رزق میں رکاوٹ ہوں گی، کالا جادو اور باقی اثرات ہوں گے ، یہ تو ہو گیا مخالف کا کام مگر یہ سوچیں آپ نے اپنے لیے کیا کیا؟ کیا آپ اللہ کے در پر جھکے ؟ اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے آسانیاں، حلال رزق حاسد کے حسد سے حفاظت اور بہتری مانگی؟ حسد بے شک اٹل سہی مگر اللہ کی رحمت و برکت سے زیادہ طاقتور نہیں لیکن انسان یہ ماننے کو تیار نہیں۔ مجھے یہ بتائیں کہ جب آپ گھر میں داخل ہوتے ہیں تو گھر والوں کے چہروں سے پتہ چل جاتا ہے نہ کہ وہ آپ سے ناراض ہے آپ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے، آپ مناتے ہیں معافی مانگتے ہیں یا کم سے کم پریشان ضرور ہو جاتے ہیں ، تو پھر یہی مشقت ، دوڑ دھوپ اللہ تعالی کے لیے کیوں نہیں، آخر ہم اللہ کی ناراضگی کیوں نہیں جان نہیں پاتے، نماز پڑھتے وقت ، مسجد میں داخل ہوتے وقت ہم اپنے اندر کی بے چینی کو جاننے کی کوشش کیوں نہیں کرتے، اللہ تو رحمان ہے، مہربان ہے مگر ہمارا دل یہ ماننے سے قاصر ہے، نماز میں دل نہ لگنا، پر سکون نیند میسر نہ ہونا، بڑوں سے بے ادبی کرنا اور احساس نہ ہونا، روز گار کی تلاش میں خوار ہو جانا یہ سبھی اللہ کی طرف سے آزمائشیں ہیں صرف انسان کو راہ راست پر لانے کے لیے مگر ہم نے انہیں پتہ نہیں کہاں کہاں منسوب کر دیا ہے، ہمیں سب سمجھ آتا ہے مگر اللہ کی محبت سمجھنا ہمیں کبھی نہیں اسکا،
تنہائی، بے بسی لا حاری اور اللہ کا خوف انسان کو ویسے نہیں رلاتی جیسے اسکی محبت انسان کو رلاتی ہے،پریمان سرور ہو جاتے ہیں، وہیں سست ردود آپ اللہ سے پے یوں ہم اللہ ناراضگی کیوں نہیں جان نہیں پاتے، نماز پڑھتے وقت ، مسجد میں داخل ہوتے وقت ہم اپنے اندر کی بے چینی کو جاننے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ، اللہ تو رحمان ہے، مہربان ہے مگر ہمارا دل یہ ماننے سے قاصر ہے، نماز میں دل نہ لگنا، پر سکون نیند میسر نہ ہونا، بڑوں سے بے ادبی کرنا اور احساس نہ ہونا، روز گار کی تلاش میں خوار ہو جانا یہ سبھی اللہ کی طرف سے آزمائشیں ہیں صرف انسان کو راہ راست پر لانے کے لیے مگر ہم نے انہیں پتہ نہیں کہاں کہاں منسوب کر دیا ہے، ہمیں سب سمجھ آتا ہے مگر اللہ کی محبت سمجھنا ہمیں کبھی نہیں اسکا،
، فقط صراط مستقیم پر چلنے کی کوشش تو کریں، صرف کوشش !!اللہ کا ظرف بہت بلند ہے وہ انسانوں کے بنائے ہوئے پیمانوں پر نہیں پر کھتا، ہمیں اللہ سبحان و تعالی کا زو الجلال والاکرام ہونا تو یاد ہے مگر رحمان و رحیم کی صفات یاد نہیں، اللہ بے نیاز ہے اسے تمہاری عبادتوں سے ہر گز بھی کوئی غرض نہیں، اللہ نہیں تھکاتا ہے ہمیں، ہم خود ہی اپنی بے جا خواہشات میں تھک جاتے ہیں،
وقت آنے پر ہمیں ادراک ہو جاتا ہے کہ اگر اللہ رب العزت ہمیں ہمارے انتخاب پر چھوڑ دیتا تو ہم ڈوب جاتے۔ آپکے تبصرے کی منتظر اقصیٰ فاطمہ، اللہ نگہبان !!
More content here.
Wrap up your thoughts.
Thank you for reading!
Roman Urdu