جان لینے کے طریقے تو اور بھی ہیں
اس آخری نظر میں عجب درد تھا
اس کے جانے کا رنج مجھے عمر بھر رہا
میری خوشیاں تمہیں بہت عزیز تھی نہ
میں جانے کے بعد اب تم بھی خوشیاں مناؤ
میری زندگی سے کھیلنا سب کسی فطرت بن گئی ہے
کاش میں کھلونا بن کر دیکھتا تو کسی ایک کا ہوتا
جھوٹ کے آگے پیچھے دو دریا چلتے ہیں
سچ کہا تو پیاسا مارا جائے گا
سخت راتوں میں بھی آسان سفر لگتا ہے
یہ میری ماں کی دعاوں کا اثر لگتا ہے
حیا و شریعت کے تقاضوں کی بات کرتے ہو
تم نے ننگے جسموں کو ملبوس حیا دیکھا ہے
لوگ مجھ سے ہر بار پوچھتے ہیں تم نے اس سے اس میں کیا دیکھا
میں نے کہا جب اسے دیکھا تو اس کے بعد کچھ نہیں دیکھا
میری چاہت نہیں بدلی ابھی کچھ نہیں بدلا
اگر سمجھو اگر چاہو اگر مانو تو لوٹ آ
مجھے بھیک کی خوشیاں پسند نہیں
میں جیتا ہوں اپنے خوابوں میں نوابوں کی طرح
ونہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے
خدا کرے نیا سال ہر ایک کے لیے خوشیاں لائے
کتاب تقدیر سے کیا شکوہ اے دلِ ناداں
جب ہر چیز نے مٹ جانا ہے تو خواہش کیسی
تپش سورج میں ہوتی ہے چلنا زمین کو پڑھتا ہے
محبت نگاہیں کرتی ہیں تڑپنا دل کو پڑتا ہے
رولا رکھتا ہے تری تحریر نے ہر ایک کو
تمہاری قلم جس انسان نے تیری وانسان کیا تھا