ایک دفعہ ایک مکار لومڑ کسی خر گوش کا پیچھا کر رہا تھا۔
خرگوش جان بوجھ کر ایک کی طرف بھاگا۔
یکا یکا خرگوش دائیں جا نب مڑ گیا۔
لیکن مکار لومڑ سیدھا چلتے ہوئے کنویں میں گر گیا۔
لومڑ اپنے کیے پر بہت پچھتایا۔
لگا اپنے آپ کو کوسنے کہ اب وہ کیسے باہر آئے گا۔
اس کی پریشانی اور اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔
کیوں کہ وقت گزرتا جا رہا تھا اور کنویں سے نکلنے کی کو ئی صورت نظر نہ آ رہی تھی۔
اتنی دیر میں ادھر ایک بکری آ نکلی۔
بکری نے جھانک کر کنویں میں دیکھا تو لو مڑ سے پو چھا ،تم ادہر کیا کر رہے ہو۔
لومڑ فوراَ جواب دیا کہ اس کنویں کا پانی بہت میٹھا ہے۔
میں یہاں پر ہر روز آتا ہوں۔
بکری پہلے ہی پیاسی تھی۔
اس نے بغیر سوچے سمجھے کنویں میں چھلانگ لگا دی۔
بکری نے پانی پیا تو یہ میٹھا نہ تھا۔
اسی اثنا میں لو مڑ نے بکری کی پشت پر بیٹھ کر کنویں سے با ہر چھلانگ لگا دی۔
بکری نے اپنی غلطی کو محسوس کیا ۔
اس نے لومڑ سے التجا کی کہ وہ با ہر نکلنے میں اس کی مدد کر ے۔
لو مڑ نے ہنستے ہو ئے اسے کہا ،میں میں کرتی جا ؤ تمہارا مالک آ کر خود ہی تمہیں نکال لے گا۔
نتیجہ:
کو ئی بھی کام کرنے سے پہلے اس کے نتائج کے بارے میں ضرور سوچیں۔