Magic show

Words
334
Reading
2 min
15h
Listen to this post
~2 min

جادوگر کے آنسو
شہر کے سب سے بڑے تھیٹر میں جشن کا سماں تھا۔ روشنیاں چمک رہی تھیں اور لوگوں کا ہجوم سانس روکے جادوگر 'سکندر' کے ہر کرشمے پر تالیاں بجا رہا تھا۔ وہ کبھی خالی ہاتھ سے کبوتر اڑاتا، کبھی تاش کے پتوں کو ہوا میں غائب کر دیتا، اور کبھی اپنی جادوئی ٹوپی سے رنگ برنگے رومال اور خرگوش نکالتا۔ اس کی ہر ادا پر لوگ دیوانے ہو رہے تھے۔
جادوگر سکندر ایک ایسی دنیا کا بادشاہ تھا جہاں ناممکن کچھ نہ تھا۔ وہ اپنی ٹوپی سے وہ سب کچھ نکال سکتا تھا جو لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی، اور اس کا ماننا تھا کہ اس کا جادو ہر خواہش پوری کر سکتا ہے۔
جب شو ختم ہوا اور لوگ جانے لگے، تو اسٹیج کی مدہم روشنی میں ایک چھوٹا سا بچہ اپنی جگہ پر خاموش بیٹھا رہ گیا۔ وہ میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھا اور اس کی آنکھوں میں گہری اداسی تھی۔ سکندر نے اسے دیکھا اور مسکراتے ہوئے اس کے پاس گیا۔
"کیا تمہیں جادو پسند نہیں آیا، میرے بچے؟" سکندر نے پوچھا۔
بچے نے سر اٹھایا اور اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ "جادوگر صاحب، آپ تو بہت بڑے فنکار ہیں۔ کیا آپ سچ مچ کچھ بھی کر سکتے ہیں؟"
سکندر نے فخر سے جواب دیا، "ہاں، میرا جادو بہت طاقتور ہے۔ بتاؤ تمہیں کیا چاہیے؟ میں ابھی اپنی ٹوپی سے نکال دوں گا۔"
بچے نے آہستگی سے جادوگر کی ٹوپی کی طرف اشارہ کیا اور وہ جملہ کہا جس نے جادوگر کے پیروں تلے سے زمین نکال دی:
"اس بار اس ٹوپی سے میری ماں نکال لو..."
بچے کی آواز میں ایسی شدت تھی کہ پورا تھیٹر تھررا اٹھا۔ وہ روتے ہوئے بولا، "میری ماں ہمیں چھوڑ کر بہت دور چلی گئی ہے۔ لوگ کہتے ہیں وہ اب کبھی واپس نہیں آئے گی۔ لیکن آپ تو جادوگر ہیں، آپ تو ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ کیا آپ میری ماں کو واپس لا سکتے ہیں؟"

Magic show | Ecency