سانوں اک پل چین نہ آوے

Words
836
Reading
4 min
Listen
Play
1y

ہر روز صبح کے وقت انارکلی کے نیلا گنبد کے سامنے اس طبی درسگاہ کے سفید گنبد سے جب روشنی پھسل کر انارکلی کی زمین پر آ گرتی ہے تو کاروبار جہاں رواں ہو جاتے ہیں اسی اثنا میں میں اور میرے چند ساتھی شاید کبھی نہ ختم ہونے والی جدوجہد کا حصہ بن جاتے ہیں صبح ہوتے ہی ہماری روانگی ہاسٹلز سے سیدھا اٹینڈس حال کی طرف ہوتی ہے جہاں داخل ہوتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے زندگی کا یہ دن پھر نئے چیلنجز لے کر انے والا ہے یہ میری طبی سند کا حتمی سال یعنی فائنل ایئر ہے اور اس سال نے جو تبدیلیاں میرے جذبات خیالات اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں لائی شاید وہ تبدیلیاں ماضی کی پوری زندگی میں بھی نہ ا سکی اب سکٹزو فرینیا کسی ایک طبی کیفیت طاری رہتی ہے کہ جس میں خود مجھے نہیں پتہ چل پاتا کہ میں خوش کب ہوں اور اداس کب ویسے تو یہ لمحہ ہر میڈیکل کے طالب علم کی زندگی کا حصہ ضرور بنتا ہے لیکن میرے لیے یہ تب اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جب میں اسے اپنے سب سے قریبی رشتے یعنی اپنے والد سے شیئر نہیں کر پاتا میری بد نصیبی یہ ہے کہ میری کم عمری میں ہی وہ اس جہاں کو چھوڑ کر چلے گئے ان کا چھوڑنا گویا یوں تھا جیسے مجھ سے میرے خیالات اور ایسا ساتھ کچن جانا جو میں کبھی ان کو بتاتا وہ مجھے ڈانٹتے نصیحت کرتے حل بتاتے اور میری باہم جوئی کرتے لیکن شاید قدرت کو ایسا منظور ہی نہ تھا.
IMG_20250522_184532.jpg

چہروں کے پیچھے اکثر کئی دکھ چھپے ہوتے ہیں لیکن میرے یہ دکھ تب خوشی میں تبدیل ہو جاتے ہیں جب چند احباب گلے مل کر ان سارے غموں کو جذب کر لیتے ہیں میں خود کو خوش قسمت اس لیے کہتا ہوں کہ میرے دائرہ احباب میں انافراد کی ایک طویل فہرست کنند ہے کہ جنہوں نے زندگی کے کئی مواقع پر میرا ممکنہ ساتھ دیا وہ میری خوشیوں میں بھی شریک تھےاور غموں میں بھی انہوں نے میرا ساتھ نہ چھوڑا لیکن وہ مایوسی اور وہ کیفیت جس کا ذمہ دار بھی میں خود ہوں مجھ سے یہ سوال کرتی ہے کہ اگر اج میرے والد صاحب ا کر میرے سامنے کھڑے ہو جائیں تو کیا میں ان کو یہ جواب دے پاؤں گا کہ میں زندگی کے اس مقام کی طرف بڑھ رہا ہوں اس مقام کی انہیں مجھ سے امید ہونی چاہیے بلا شبہ میں ایک ممتاز درسگاہ کا حصہ تو ہوں لیکن کیا اپنے خیالات سے میں خوش بھی ہوں.

شاید نہیں اور شاید ہاں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس بات کا جواب میں ڈھونڈنے نہیں نکلا ہوں بلکہ اس بات کا جواب تو میں تعمیر کرنے نکلا ہوں کیونکہ اخر کار قسمت ہو اللہ تعالی نے ہمارے ہاتھ میں ہی رکھی ہے نا تو یہ ہم پر انحصار کرتا ہے کہ ہم اپنی قسمت کو کس جانب موڑیں کیونکہ اخر کوئی تو ایسی نیکی تھی کہ جس کی بدولت مجھے ایک عظیم مقام کا حصہ بننے کا موقع ملا.

IMG_20250119_162133.jpg

میں ایک بات پر یقین رکھتا ہوں کہ زندگی ہمیں کبھی بھی راستہ نہیں دکھاتی بلکہ ایک خاص مقام کے اشارے ضرور دیتی ہے بس ان اشاروں کو ہی سمجھنا ہمارے لیے سب سے پہلا کام ہے اور میں اس خیال میں بھی ڈوبا رہتا ہوں کہ اگر زندگی مجھے سانس لینے کا موقع دے ہی رہی ہے تو میں کیوں اسے بہتر نہیں بنا رہا میں کیوں زندگی میں اگے نہیں بڑھ رہا میں کیوں لوگوں سے پیچھے ہوں کیوں میری سوچ دوسروں سے مختلف ہے کیوں میں ہنستا تو رہتا ہوں لیکن پھر بھی اندر سے مایوس ہوتا چلا جا رہا ہوں حالانکہ میں کبھی ایسا نہ تھا پھر یہ خیال میرے دل میں اتا ہے کہ میں اپنے اس مقصد سے دور جا رہا ہوں کہ جس مقصد سے میرے والد صاحب مجھے دیکھنا چاہتے تھے وہ مجھے ایک اچھا انسان دیکھنا چاہتے تھے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ سفید کوٹ پہنے لوگوں کے جذبات اور احساسات کو اپنے اندر سمو کر اس ارزو کی کوشش تو کروں.

IMG_20250522_181340.jpg

یہ میرا فائنل ایئر ہے لیکن اس کے ساتھ جڑے خواب صرف میرے ہی نہیں ہیں بلکہ ان خوابوں کے ساتھ وہ انکھیں بھی جڑی ہوئی ہیں جنہوں نے میری انکھوں میں انسو نہ لانے کے لیے ہر ممکنہ کوششیں کی میں خود کو ایک ایسا مسافر سمجھتا ہوں کہ جو ٹوٹا ہے پر جھکا نہیں جو احساسات کی لپیٹ میں ضرور ایا ہے مگر کبھی بھی بکرا نہیں لیکن میری دوسری کیفیت جو مجھے سکڈز و فرینیا کا ایک مریض کہلوانے پر مجبور کرتی ہے مجھے اس بات پر زور دیتی ہے کہ میں اس پورے تماشے سے نکل جاؤں لیکن ساتھ ہی ساتھ جو امیدیں مجھ سے وابستہ ہیں اور جو خیالات اور انکھیں میری راہ دیکھ رہی ہیں وہ مجھے ہمت اور حوصلہ اس بات کا دیتے ہیں کہ ایک دن میں پھر اٹھ کر ایک عام زندگی ضرور جی پاؤں گا بس میرا یہی اک خواب ہے.

IMG_20250418_134512.jpg

https://www.instagram.com/adnan_raaajput/

Follow for more

سانوں اک پل چین نہ آوے | Ecency