خدا کرے کے میری عرض پاک پے اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے کھلا رہے صدیوں
یہاں سے خزاں کو گزارنے کی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کے جس کی کوئی مثال نہ ہو
خدا کرے کے نہ خام ہو سر وقار وطن
اور اس کے حسن کو تشوش ماہ وسا ل نہ ہو
ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج و کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے میرے ایک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو
جشنِ آزادی مبارک تمام پاکستانیوں کو
آتش بازی کا ایک خوبصورت منظر منارِ پاکستان پر ٹھیک رات کے 12 بجے
اے وطن تو زندہ رہے پائندہ رہے
پھولوں سے مہکتا رہے چاند سا چکمتا رہے آمین
یہ پرچم کا سر کبھی نیچے کا ہو
یہ صدا بلند رہے، زوال نہ آۓ
پاکستان اپنا اکتھرواں یوم آزادی آج 14 اگست کو منا رہا ہے،71 سال کی جدوجہد ایسے ایک بلند مقام تک پہچانے کی اور کئی سالوں کی جدوجہد ایسے پانے کی۔ ایسے پانے کی راہ آساں نہ تھی ایک تکلیف دہ راستے پہ چل کی یہ حاصل ہواآزادی کی راہ میں لاکھوں کڑوروں مسلانوں کی قربانی کا لہو بہا کتنی بہیں بیتیوں کی قربایناں شامل ہیں، بےشک ہم کوئی قربانی نہیں بھولے!
آج بھی ہماری پاک آرمی کے نوجوان اپنی جانوں کے نزرانے دے کر اس ملک کی حفاظت کر رہے ہیں اُن تمام لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے،
سلام اے شہیدِ وطن سلام
"یہ مٹی ہماری جان اس پر سب کچھ قربان"
قائد اعظم نے فرمایا تھا
مسلمان مصیبت سے گھبرایا نہیں کرتے۔
Photography by Talha Arshad