انسان بھی محض بقا کے لیے نہیں آیا

ayala09(58)
Published in
Snapie
Words
85
Reading
1 min
Listen
Play
7M

1000136383.jpg

جو کہتے ہیں
کہ انسان کو انسان کی ضرورت نہیں،
بس خواہش کافی ہوتی ہے,
وہ شاید زندگی کو صرف گزارنے کے معنی میں سمجھتے ہیں۔

جیسے ایک پھول
اکیلا بھی پانی، ہوا اور سورج کے سہارے
سانس تو لے سکتا ہے،
مگر معنی اسے باغ میں ملتے ہیں،
جہاں وہ اپنے جیسے وجودوں کے درمیان
لہرانا سیکھتا ہے۔

اسی لیے انسان بھی
محض بقا کے لیے نہیں آیا،
وہ تعلق میں اپنی صورت پہچاننے،
اور ایک دوسرے کے ساتھ
زیادہ انسان بننے آیا ہے۔

انسان بھی محض بقا کے لیے نہیں آیا | Ecency