میرے نام محمدعامر حیات خان
ہے
اور میرے والد کا نام محمد اصغر خان ہے
اور ہم دو بھائی ہیں
میرے دو بیٹے ہیں
اور ایک بیٹی ہے
میرا بڑا بیٹا کا نام علی احتشام خان ہے
اور دوسرے بیٹے کا نام علی رحمان خان ہے
بڑا بیٹا آٹھویں کلاس میں پڑھتا ہے
اور چھوٹا بیٹا تیسری کلاس میں پڑھتا ہے
ان دونوں کا اچھا اتفاق ہے
بڑے پیار سے رہتے ہیں اور
ایک دوسرے کا کافی خیال رکھتے ہیں
ان دونوں کو جھوٹ بولنے کی عادت نہیں ہے
میں چاہتا ہوں کہ معاشرے میں ان کی اپنی الگ پہچان ہو
اور ملک کا نام روشن کرنے کے لیے دن رات محنت کریں
اورترقی کی منازل طۓ کریں
میں درزی کا کام کرتا ہوں
اور ساتھ ساتھ کاشتکاری بھی کرتا ہوں
تاکہ سال بھر کا اناج اکھٹا کر سکوں
میرے بھائی بینک میں کام کرتے ہیں
اس کے دو بچے ہیں
ہمارے والد اور والدہ کا انتقال ہو گیا ہے
میں نے آج سے بیس سال پہلے کام شروع کیا تھا
اب میرا کام اچھا چل رہا ہے
پچھلے سال میں چائنہ کمپنی میں کام کرنے کے لیے کراچی گیا
وہاں ایک سال کام کیا اور کام کے دوران میں بیس فٹ کی بلندی سے گر گیا
اور میرا بازو ٹوٹ گیا
اور پھر مجھے اس ملازمت کو چھوڑنا پڑھ گیا
اب میں ٹھیک ہوں
اور دوبارہ سے کپڑے سلائی کرتا ہوں صبح 8 بجے دکان اوپن کر تا ہوں
اور6 بجے بند کرتا ہوں
رات کو کھانا کھانے کے بعد ہم مل کر گرما گرم چاۓ سے لطف اندوز ہوتے ہیں
یہ میرا مختصر سا تعارف ہے
میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اچھا لگا ہو گا
باقی مجھے جھوٹ بولنا پسند نہیں اور نہ ہی میں بولتا ہوں
My name is Mohammad Aamir Hayat Khan and my father's name is Mohammad Asghar Khan and we are two brothers. I have two sons and one daughter. My eldest son's name is Ali Ehtesham Khan and my other son's name is Ali Rehman Khan. My eldest son is 8th class. I study and my youngest son is studying in 3rd class. They both have a good rapport. They live with great love and take good care of each other. They are not in the habit of lying. I want their separate identity in the society. I work day and night to make the country famous and make progress. I work as a tailor and also do farming so that I can collect grain all year round. My brother works in a bank. His two children Our father and mother have passed away. I started working twenty years ago today. Now my work is going well. Last year I went to Karachi to work for a China company. I worked there for a year and during the work I Fell from a height of twenty feet and broke my arm and then I was told to quit this job. I sew. I open the shop at 8 in the morning and close it at 6 in the morning. After dinner we enjoy hot tea together. This is my brief introduction. I hope you guys like it. I don't like to lie anymore and neither do I.