Protest against mafia.........

Words
343
Reading
2 min
Listen
Play
8y

FB_IMG_1524586832700.jpg

بلاشبہ مری کسی وقت ایک خوبصورت جگہ ہوا کرتی تھی لوگ اپنی فیملیوں کے ساتھ یا اکیلے مری کا رخ کرتے تھے لیکن جوں جوں ٹورسٹ بڑھتا گیا مری نتھیا گلی اور گردونواح میں ویکنڈز اور چھٹیوں یا برفباری کے دنوں میں ٹورسٹوں کا جم غفیر اکٹھا ہوجاتا ہے بس پھر کیا ہے رش نے ہوٹلز مالکان مری کے دماغ خراب کر دیا۔،! ویکنڈز کے دنوں میں رش زیادہ ہونے کی وجہ سے ہوٹل مالکان کمروں کے کرایہ ۱۵۰۰ سے بڑھا کر ۴۰۰۰ تک اور برفباری کے دنوں میں ۹۰۰۰ تک بڑھا دیتے ہیں۔،!

ہر ہوٹل مالک نے باہر اپنے ایجنٹس کھڑے کیے ہوتے ہیں جو مسافروں سے ڈیل کرتے ہیں ریٹ طے کرنے کے دوران بحث مباحثہ بھی ہوتا ہے جلدبازی میں ایجنٹس کی طرف سے تو تلاک کے بعد تلخ رویہ اور جوابی تلخ روایہ کی صورت میں ہاتھا پائی پھر کیا شہد کی مکھیوں کی طرح ان کے ساتھی اکٹھے ہوجاتے ہیں اور تشدد کی راہ اختیار کرتے ہیں۔،! فیملی والے افراد بیچارےبرے طریقے سے پٹ جاتے ہیں۔،!

جو مری نتھیا گلی دیکھ کر رج چکا ہوتا ہے وہ کشمیر کا رخ اختیار کرتا ہے ایک خوبصورت نظارہ کوہالہ پر ان کی راہ تکتا ہے فیملیاں دیکھتی ہیں کہ دریا میں چارپائیاں پڑی ہیں تھوڑا انجوائے ہو جائے لیکن انجوائے کیا خاک کرنا اس چارپائی کا کرایہ ۳۰۰ سے ۱۰۰۰ روپیہ ہے کوئی دے تو ٹھیک کوئی نا دے تو وہاں بھی مار کٹائی شروع ہو جاتی ہے۔،!

ٹورسٹ کمیونٹی کے ہیرو فرخ بابر صاحب نے ٹورسٹس سے مشاورت کے بعد کل مری بائیکاٹ ریلی کا انعقاد کیا ریلی ارکان ۳:۳۰ پر لبرٹی گول چکر پہنچے۔ جہاں سے ریلی کا آغاز ۴ بجے ہوا تھا اور ریلی مختلف روٹس سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچی۔،! مختلف شہروں سے بھی ٹورٹس نے شرکت کی تھی۔،!

میری حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے درخواست ہے کہ ایسے عناصر کا قلع قمع کیا جائے جو ان علاقوں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور میری ٹورسٹس فیملی سے درخواست ہے کہ مری کوہالہ کا بائیکاٹ کیا جائے تاکہ ان ہوٹل مالکان کو عقل آسکے۔،!
DQmRhDtjokAZnGKi4QwheqksKTFo6m4fsjMYsNNrsitC1xk.gif

Protest against mafia......... | Ecency