اے ساربان !
میرا دل نئے نئے ویرانے چاہتا ہے ، میں درندوں اور چوپاؤں کی دنیا سے تنگ آ کر کسی انسان کی تلاش میں نکلا ہوں _ _ _ شاید یہ رات کا پچھلا پہر ہے _ _ _ کوئی وقت اور گزرتا ہے کہ پوُ پھوٹنے والی ہے _ _ _ تب دھیرے دھیرے ہر شے روشن ہو جائے گی _ _ _ اور سب کچھ کُھل جائے گا_ _ _ وہ ایسا وقت ہو گا کہ کوئی کسی سے دھوکہ یا فریب نہیں کر سکے گا _ _ _ ڈر اور خوف جاتا رہے گا_ _ _ ہاں میں اُسی کے انتظار میں ہوں _ _ _ اندھیروں سے نبرد آزماء _ _ _ مجھے صبح کا انتظار ہے _ _ _ کوئی قافلہ گزر رہا ہے ؛
دُو____ر _ _ _ سے حدی خواں کی آواز سُنائی دیتی ہے :
” اور یہ رات کا پچھلا پہر تھا ،
جب میں نے آنکھ کھولی تو مجھے اُس کی یاد نے آ لیا .
اُس کی یاد سے میرے سینے میں الاؤ روشن ہیں .
اے ساربان ! آہستہ چل ،
کہ میری پسلیوں میں آگ ہے ،
میں اُس کی یاد سے بھاگ نہیں سکتا . “
جب تیز ہوائیں چلتی ہیں تو سب کچھ اُڑا لے جاتی ہیں ، کچھ ہاتھ نہیں آتا _ _ _ وقت کو کون قید کر سکا ہے ؟ مجھے اُس سے ملنے کیلئے _ _ _ احساس کے اُس پار اُترنا ہے .
میرے پاس زادِ راہ نہیں ،
اور میرا سفر بہت لمبا ہے .
میں وہ مسافر ہوں ، جس کے پاؤں آبلوں سے بھر گئے ہیں اور وہ راستے کو کھو چکا ہے .
” اے ساربان ! آہستہ چل ،
کہ میری پسلیوں میں آگ ہے “
اور وقت کو کون قید کر سکا ہے ؟؟؟؟
جب میں نے آنکھ کھولی تو مجھے اُس کی یاد نے آ لیا!!!!!!!!!!!!