Yaad

ahmad20(40)
Published in
#yaad
Words
279
Reading
2 min
9y
Listen to this post
~2 min

اے ساربان ! 

میرا دل نئے نئے ویرانے چاہتا ہے ، میں درندوں اور چوپاؤں کی دنیا سے تنگ آ کر کسی انسان کی تلاش میں نکلا ہوں _ _ _  شاید یہ رات کا پچھلا پہر ہے _ _ _  کوئی وقت اور گزرتا ہے کہ پوُ پھوٹنے والی ہے _ _ _ تب دھیرے دھیرے ہر شے روشن ہو جائے گی _ _ _  اور سب کچھ کُھل جائے گا_ _ _  وہ ایسا وقت ہو گا کہ کوئی کسی سے دھوکہ یا فریب نہیں کر سکے گا _ _ _  ڈر اور خوف جاتا رہے گا_ _ _  ہاں میں اُسی کے انتظار میں ہوں _ _ _  اندھیروں سے نبرد آزماء _ _ _  مجھے صبح کا انتظار ہے _ _ _  کوئی قافلہ گزر رہا ہے ؛ 

دُو____ر _ _ _ سے حدی خواں کی آواز سُنائی دیتی ہے  :

” اور یہ رات کا پچھلا پہر تھا ، 

جب میں نے آنکھ کھولی تو مجھے اُس کی یاد نے آ لیا . 

اُس کی یاد سے میرے سینے میں الاؤ روشن ہیں . 

اے ساربان ! آہستہ چل ، 

کہ میری پسلیوں میں آگ ہے ، 

میں اُس کی یاد سے بھاگ نہیں سکتا . “

                       جب تیز ہوائیں چلتی ہیں تو سب کچھ اُڑا لے جاتی ہیں ، کچھ ہاتھ نہیں آتا _ _ _  وقت کو کون قید کر سکا ہے ؟ مجھے اُس سے ملنے کیلئے _ _ _ احساس کے اُس پار اُترنا ہے . 

میرے پاس زادِ راہ نہیں ، 

اور میرا سفر بہت لمبا ہے . 

میں وہ مسافر ہوں ، جس کے پاؤں آبلوں سے بھر گئے ہیں اور وہ راستے کو کھو چکا ہے . 

” اے ساربان ! آہستہ چل ، 

کہ میری پسلیوں میں آگ ہے “

اور وقت کو کون قید کر سکا ہے ؟؟؟؟

جب میں نے آنکھ کھولی تو مجھے اُس کی یاد نے آ لیا!!!!!!!!!!!!

Yaad | Ecency