نوجوان کے مسلسل گھورنے سے قباحت سی محسوس ہوئی تو ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھی ہوئی بزرگ عورت سے مخاطب ہوکر بولی؛
"یہ بے حیا مرد مُجھے پچھلے آدھے گھنٹے سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مسلسل گھورے جا رہا ہے“
بوڑھی اماں نے ایک لمبی سانس لی اور بڑے اطمینان سے بولی؛
”بیٹا یہ وہی دیکھ رہا ہے جو دکھانے کے لئیے تُم نے اتنا چُست لباس پہن رکھا ہے. "
موصوفہ ایک بار پھر تلملا اُٹھی اور گرج دار آواز میں کہنے لگی؛
"میرا جسم میری مرضی"
بُزرگ عورت حماقت پر مبنی اس جملے کو سُن کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور کہنے لگیں؛
" اگر تُمہارا جسم تُمہاری مرضی ہے تو اُس نے کونسا آنکھیں US Aid والوں سے لے رکھی ہیں! اُسکی آنکھیں اُسکی مرضی