One mistake that every second middle-class person makes is "spending more than their income." This is something that makes a middle-class individual even poorer.
"In reality, no one is poor until they choose to be poor."
Image Created With Google Gemini
Helping someone who has lost their way is the true identity of a human, and the middle-class person has lost their way. They need someone who can guide them, someone who can tell them to always spend according to their pocket. There is a very famous Urdu proverb: "Cut your coat according to your cloth" (spend according to your means)—meaning before doing any work, always see, understand, and think about how much it will cost, whether it is your energy or your money. Earning both is very difficult. If you have energy but no money, the energy feels wasted; whereas if you have money but no energy, what is the use of such money that has made you lazy?
Who is Poor?
We cannot call the middle class poor because they bear their own expenses, whereas a person who is truly poor—for whom eating two meals a day is difficult—how will they meet their other scattered expenses? A very famous quote attributed to Bill Gates says: "If you are born poor it's not your mistake, but if you die poor it's your mistake." According to recent Federal Reserve financial survey data, over 60% of middle-income earners live paycheck to paycheck because of unmonitored lifestyle inflation. If a person cannot make themselves financially secure after working for 30 to 50 years, it often stems from these unmanaged spending habits.
The brain is such a part of the human body that can force us to do anything, even "suicide." But when it comes to our own desires, why do we lag behind? Which power forces us to remain in this torment?
"How to Control Our Brain?"
Yes, absolutely. When someone among us is lazy and not accustomed to working hard, their brain constantly tells them to rest. However, if we want, we can get out of all this. How? By forcing our brain. The first few days will definitely be difficult, but gradually, our brain will accept our new behavior. As a result, we can easily come out of our bad times (whether it is poverty or something else).
Read one of my previous Blog where I write about"Why We Should Stop Sharing our Secrets?"
Read Here
اردو
ایک غلطی جو ہر دوسرا مڈل کلاس کرتا ہے، "اپنی کمائی سے زیادہ خرچ"۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ جو ایک مڈل کلاس فرد کو مزید غریب کرتی ہے۔
"دراصل کوئی غریب تب تک نہیں ہوتا جب تک وہ خود غریب ہونے کو ترجیح نہیں دیتا"۔
کسی بھولے بھٹکے کی مدد کرنا ہی اصل انسان کی پہچان ہے، اور مڈل کلاس آدمی راستے سے بھٹکا ہوا ہے۔ اسے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے کہ جو اس کو سمجھا سکے، اسے بتا سکے کہ خرچ ہمیشہ اپنی جیب کو دیکھ کر کرو۔ اردو کی ایک بہت مشہور کہاوت ہے، "چادر دیکھ کر پاؤں پھیلاؤ"، یعنی کوئی بھی کام کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لو، سمجھ لو، سوچ لو کہ اس کام پر کتنا خرچ آئے گا، چاہے وہ آپکی انرجی ہو یا پیسہ۔ دونوں کمانا بہت مشکل ہے، اگر انرجی ہو پیسہ نہ ہو تو انرجی بیکار لگتی ہے، جبکہ پیسہ ہو انرجی نہ ہو، کیا فائدہ ایسے پیسے کا جس نے آپ کو سست کر دیا؟
غریب کون ہے؟
مڈل کلاس کو ہم غریب نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ اپنے اخراجات خود اٹھاتا ہے، جبکہ وہ شخص جو ہے ہی غریب، جس کے لیے دو وقت کا کھانا کھانا مشکل ہو، وہ اپنے ادھر ادھر کے اخراجات کیسے پورے کرے گا؟ بل گیٹس سے منسوب ایک بہت مشہور قول ہے: "اگر آپ غریب پیدا ہوئے ہیں تو یہ آپ کی غلطی نہیں، لیکن اگر آپ غریب ہی مرتے ہیں تو یہ آپ کی غلطی ہے۔" فیڈرل ریزرو کے مالیاتی سروے کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، درمیانی آمدنی والے 60 فیصد سے زیادہ افراد اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ روزمرہ کے اخراجات میں ہی خرچ کر دیتے ہیں (یعنی 'پے چیک ٹو پے چیک' زندگی گزارتے ہیں) جس کی وجہ طرزِ زندگی کے اخراجات میں بے قابو اضافہ ہے۔ اگر کوئی شخص 30 سے 50 سال تک کام کرنے کے باوجود خود کو مالی طور پر محفوظ نہیں بنا پاتا، تو اس کی وجہ اکثر یہی بے قابو اخراجاتی عادات ہوتی ہیں۔
دماغ انسانی جسم ایک ایسا حصہ ہے کہ جو ہمیں کچھ بھی کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، یہاں تک کہ "خودکشی" بھی۔ مگر جب بات ہماری اپنی خواہشات پر آئے تو ہم پیچھے کیوں رہ جاتے ہیں؟ کون سی طاقت ہمیں اسی عذاب میں رہنے پر مجبور کرتی ہے؟
"اپنے دماغ کو کیسے کنٹرول کریں؟"
جی بلکل، جب ہم سے کوئی سست ہو، کام کرنے کا عادی نہ ہو، تو اس کا دماغ ہر وقت اسے آرام کرنے کے لیے کہتا رہتا ہے۔ جبکہ اگر ہم چاہیں تو اس سب سے باہر نکل سکتے ہیں، کیسے؟ اپنے دماغ کو مجبور کرنے سے، شروع کے کچھ دن مشکل ضرور ہوں گے، مگر آہستہ آہستہ ہمارا دماغ ہمارے رویے کو قبول کرلے گا۔ جس کی بدولت ہم اپنے برے وقت (چاہے وہ غریبی ہو یا کچھ اور) سے بآسانی باہر نکل سکتے ہیں۔
کیا آپ کا دماغ بھی آپ کو آسان زندگی گزارنے اور محنت نہ کرنے کے لیے آپ کے ساتھ زبردستی کرتا ہے؟ چلیں آئیں اب اس سے باہر نکلیں ۔
NOTE
English isn't my First even Second Language, sometime I use Google Translator.
Photos have their source links..
Don't hesitate to give your feedback , It will encourage my confidence.
Thank you very much for reading and spending your Time.
If you are new, these Blog/Posts are for you.