کچھ دن پہلے اپنے بلاگ How Can 7 Days of Screen Detox Bring Mental Peace Eng میں میں نے اسکرین اور ڈوپامین ڈیٹاکس پر کافی تفصیل سے بات کی تھی۔
اسی حوالے سے آج اس بلاگ میں مزید تفصیلات اور میری اپنی کارکردگی شئیر کروں گا۔ میں نے اسکرین کا وقت کنٹرول کرنے کی کوشش شروع کر دی، نوٹیفکیشنز بند کر دئیے، اب ایک اور مسئلہ درپیش ہے۔۔۔ مسئلہ ایسا کہ جس پر اکثر لوگ کھل کر بات ہی نہیں کرتے رات دیر تک جاگنے کی عادت اور نیند کے پورے نظام کا تحس نہس ہو جانا۔
کبھی آپ نے خود اپنے روزمرہ معمول پر غور کیا؟ رات کے بارہ یا ایک بج رہے ہوں، اسکرین بند بھی کر دیں تو بستر پر کروٹیں بدلتے بدلتے دو اور پھر ڈھائی بج جاتے ہیں (کبھی ہوا ایسا؟)۔ ذہن میں خیالات کا ایک طوفان چل رہا ہوتا ہے کہ بندہ سونے کی لاکھ کوشش کرتا ہے، لیکن نیند آنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ اور پھر جب صبح آنکھ کھلتی ہے تو لگتا ہے جیسے رات سونے کے بجائے بھاگ دوڑ کی ہو۔ یا پھر صبح اٹھا ہی نہیں جاتا (میرے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے)، مجھے اپنے ایک ضروری کام سے یونیورسٹی جانا ہے مگر اپنی اس خراب روٹین کی وجہ سے نہیں جا پا رہا۔
اکثر لوگ خود کو فخر سے 'نائٹ اؤل' یعنی رات کا پرندہ کہتے اور سمجھتے ہیں کہ رات گئے تک جاگ کر کام کرنا یا سوچنا بہت بڑا کمال ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ہمارا جسم، ہمارا اعصابی نظام اور ہمارے پٹھے تباہی سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اور اس کا اندازہ تب ہوتا ہے جب روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں بھی سر چکرانے لگتا ہے۔ جب نیند صحیح سے پوری نہ ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے۔
بطور ہومیوپیتھک ڈاکٹر، انسانی جسم کے افعال، پٹھوں کے کھنچاؤ اور اعصابی کمزوری کے کیسز میرے سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن جب یہ چیز خود پر بیتی تو مجھے احساس ہوا کہ میڈیکل سائنس اور انسانی جسم کی قدرتی گھڑی کے ساتھ کھلواڑ کی اصل قیمت کیا ہوتی ہے۔ آج ذرا تسلی سے اسی پر بات کروں گا (آج چوتھا دن ہے اور ابھی بلاگ مکمل نہیں ہوا) کہ اس بکھری ہوئی نیند کو واپس قدرتی ٹریک پر کیسے لایا جائے۔ یا ایسا کیا کام ہے جس کو کرنے سے ہم خود اپنے سلیپ سائیکل کو بہتر کر سکتے ہیں؟
تھکن کے باوجود نیند نہ آنا
شاید دو یا پھر تین دن پہلے کی ہی بات ہے، اپنے بنائے ہوئے ڈیٹاکس اصولوں پر عمل کرتے ہوئے میں نے ارادہ کیا کہ رات بارہ بجے موبائل مکمل سائیڈ پر رکھ دینا ہے۔ ہائیو کے بلاگز، کیوریشنز اور دوستوں کے میسجز نمٹا کر میں نے ٹھیک بارہ بجے فون دور رکھ دیا۔ لائٹ بھی بند کر دی اور بستر پر لیٹ گیا مگر بس لیٹا ہی تھا، سو نہیں سکا۔
میں نے سوچا تھا کہ پورا دن کام اور بھاگ دوڑ کے بعد جیسے ہی بستر پر لیٹوں گا، فوری گہری نیند آ جائے گی۔ لیکن نتیجہ بالکل الٹ نکلا، وہی جو ہمیشہ ہوتا ہے(مگر یہ کچھ دن ہونا ہی ہے، اس کے بعد شاید بہتری آ جائے)۔
آنکھیں درد کر رہی تھیں، سر میں شدید درد تھا، لیکن جیسے ہی آنکھیں بند کیں، دماغ میں ایک عجیب سی بے چینی شروع ہو گئی۔ کبھی کسی پرانے واقعے کا خیال آ رہا ہے، کبھی کل کے کاموں کی لسٹ بن رہی ہے، تو کبھی اپنا مستقبل کے خیالات میں آدھا آدھا گھنٹہ گزر رہا ہے۔ کبھی ادھر کبھی اُدھر، کروٹیں بدل رہا ہوں، لیکن نیند کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔ جب کافی دیر بعد بے چینی میں گھڑی دیکھی تو رات کے پونے دو بج رہے تھے، یعنی پھر سے 2 گھنٹے نیند کے انتظار میں گزار دئیے۔
اس وقت بندے کو شدید چڑچڑاپن ہوتا ہے کہ جب موبائل بھی چھوڑ دیا، کام بھی بند کر دیا، تو پھر نیند کیوں نہیں آ رہی؟ یہی سوال میرے ذہن میں بار بار آ رہا تھا۔
اگلی صبح جب الارم بجا تو وہی حالت محسوس ہو رہی تھیں جو پچھلے بلاگ میں لکھ چکا ہوں۔ گردن میں شدید کھنچاؤ تھا، اور کمر ایسے اکڑی ہوئی تھی جیسے رات کو کسی سخت تختے پر سویا ہوں۔ پورا دن طبیعت میں سستی اور بے زاری رہی، وہی پہلے والا سب۔ کسی کام پر یکسوئی نہیں بن رہی تھی، ایک جملہ لکھنے بیٹھتا تو پانچ منٹ تک اگلا لفظ ہی ذہن میں نہیں آتا تھا (یہ ویسے میرے ساتھ اکثر ہوتا رہتا ہے)۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ صرف موبائل بند کر دینا کافی نہیں ہے، الٹی روٹین نے میرے اندر کے قدرتی نیند کے پورے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
گردن کا کھنچاؤ اور پوسچر کا سائنسی اثر
بحیثیت ہومیوپیتھی ڈاکٹر، میں اکثر مریضوں کو ان کے لائف اسٹائل اور پوسچر کے بارے میں گائیڈ کرتا ہوں، لیکن انسان کبھی کبھی خود بھی اسی غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ویسے میں صرف دوسروں کو ہی احتیاط کرنے کا درس دیا کرتا تھا، اب جب خود کرنا چاہ رہا ہوں تو پتا چل رہا ہے کہ اپنی روٹین میں بدلاؤ لانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔۔۔
دیر رات تک جاگنے والے اکثر لوگ صرف جاگتے ہی نہیں، بلکہ بستر یا صوفے پر آدھے لیٹے اور آدھے بیٹھے ہوتے ہیں۔ تکیے کو دہرا کر کے گردن کو ایک غیر قدرتی زاویے پر گھنٹوں جھکائے رکھنا دراصل ہماری 'ریڑھ کی ہڈی کے سروائیکل حصے' (Cervical Spine) اور گردن کے باریک عضلات پر غیر معمولی دباؤ ڈالتا ہے۔ اور یہ نہ تو ہماری ریڑھ کی ہڈی کے لیے بہتر ہے نہ ہی گردن کے پٹھوں کے لیے۔
جب دیر رات تک اس خراب زاویے میں رہتے ہیں تو پٹھے رات بھر اکڑے رہتے ہیں۔ سونے کے دوران جب جسم کو قدرتی طور پر ڈھیلا اور ریلیکس ہونا چاہیے تھا، وہ ان اکڑے ہوئے پٹھوں کی وجہ سے مزید الجھنوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی لیے جب بندہ صبح اٹھتا ہے تو سر کے پچھلے حصے سے لے کر کندھوں تک ایک عجیب درد اور بھاری پن پھیلتا محسوس ہوتا ہے۔ نیند صرف اور صرف آنکھیں بند کرنے کا نام نہیں ہے؛ جب تک ہمارے جسم کے پٹھے اور مہرے مکمل طور پر آرام کی پوزیشن میں نہیں جائیں گے، اعصابی نظام کبھی بھی گہری نیند کا سگنل جاری نہیں کرے گا۔
سرکیڈین ردھم کیا ہے؟
اب ذرا انسانی فزیالوجی کی زبان میں بات کرتے ہیں کہ ہمارے جسم کے اندر قدرتی طور پر کیا نظام چل رہا ہے۔
قدرت نے ہر انسان کے دماغ کے اندر ایک 'ماسٹر کلاک یعنی قدرتی حیاتیاتی گھڑی' رکھی ہے جسے میڈیکل سائنس میں سرکیڈین ردھم (Circadian Rhythm) کہتے ہیں۔ یہ 24 گھنٹے کا ایک ایسا آٹومیٹک سائیکل ہے جو قدرتی روشنی اور اندھیرے کے اشاروں پر چلتا ہے۔ ہمارے جسم کا درجہ حرارت، بلڈ پریشر، خوراک کا ہضم ہونا اور نیند کے تمام 'ہارمونز' اسی گھڑی کے تابع ہیں اور اسی کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔
میلاٹونن اور کورٹیسول
عام حالات میں نظام کچھ یوں کام کرتا ہے:
- صبح جب سورج نکلتا ہے اور اس کی قدرتی روشنی ہماری آنکھوں پر پڑتی ہے تو دماغ فوری طور پر کورٹیسول (Cortisol) ہارمون خارج کرتا ہے۔ یہ ہمارے چوکنا رہنے اور جاگنے کا ہارمون ہے، جس سے جسم میں توانائی دوڑتی ہے اور غنودگی ختم ہو جاتی ہے۔
- شام کو جیسے ہی سورج ڈھلتا ہے اور اندھیرا پھیلنا شروع ہوتا ہے، دماغ کورٹیسول کو کم کر کے اس کی جگہ میلاٹونن (Melatonin) بنانا شروع کر دیتا ہے۔ یہ نیند لانے والا قدرتی ہارمون ہے، جو جسم کے درجہ حرارت کو ہلکا سا گراتا ہے اور آنکھوں میں نیند پیدا کرتا ہے تاکہ ہم وقت پر سو سکیں۔
ہم نے اس قدرتی نظام کو کیسے الجھایا؟
اکثر لوگ رات کو بارہ، ایک یا دو بجے تک اپنے کمروں میں تیز سفید ایل ای ڈی لائٹس جلا کر رکھتے ہیں، یا موبائل کی تیز روشنی آنکھوں کے بالکل قریب رکھتے ہیں۔ یہی اصل وجہ ہے کہ ہمارا سلیپ سائیکل اس قدر بگڑ گیا ہے۔
"اصل وجہ کیا ہے؟"جب رات کے ایک بجے ہماری آنکھوں پر تیز مصنوعی روشنی پڑتی ہے تو دماغ الجھن کا شکار ہو جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ابھی دن کا وقت ہے۔ اس لیے وہ میلاٹونن بنانے کا عمل فوراً روک دیتا ہے اور کورٹیسول یعنی جاگنے والا ہارمون بنانا شروع کر دیتا ہے۔ پھر جب ہم اچانک لائٹ بند کر کے بستر پر لیٹتے ہیں، تو دماغ ہائی الرٹ پر ہوتا ہے۔ جسم کہتا ہے سونا ہے، لیکن خون میں دوڑتا ہوا کورٹیسول نیند کے تمام قدرتی دروازے بند کر کے رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بستر پر لیٹنے کے بعد بھی دو دو گھنٹے تک نیند نہیں آتی۔
8 گھنٹے بستر پر، پھر بھی تھکن؟ گہری نیند کا راز
اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ: "میں رات کو تین بجے سوتا ہوں اور صبح گیارہ بجے اٹھتا ہوں، میرے 8 گھنٹے تو پورے ہو جاتے ہیں، پھر مجھے تھکن کیوں رہتی ہے؟"
ہماری سب سے بڑی غلط فہمی یہی ہے کہ ہم نیند کو صرف گھنٹوں کی گنتی کا نام دے دیتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، اس کے معیار (Sleep Quality) کا نام ہے۔
میڈیکل سائنس کے مطابق ہماری نیند مختلف مراحل میں بٹی ہوتی ہے:
- ہلکی نیند: جس میں جسم ابھی سونے کی شروعات کر رہا ہوتا ہے اور ہلکی سی آہٹ سے بھی آنکھ کھل جاتی ہے۔
- گہری نیند: یہ وہ سب سے قیمتی مرحلہ ہے جس میں جسم اپنے ٹشوز کی مرمت کرتا ہے، پٹھوں کا کھنچاؤ ختم کرتا ہے، قوتِ مدافعت بڑھاتا ہے اور دماغ سے زہریلے مادے خارج کرتا ہے۔
- آر ای ایم نیند: یہ خوابوں اور دماغی میموری کو منظم کرنے کا مرحلہ ہے۔
قدرت کا اصول اور سائنسی تحقیق کے مطابق یہ ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ اور معیاری ڈیپ سلیپ رات 10 بجے سے لے کر رات 2 بجے کے درمیان ملتی ہے۔ جب ہم سوتے ہی رات دو بجے ہیں، تو ہم اس سنہری فیز کو مکمل طور پر ضائع کر چکے ہوتے ہیں۔
صبح کے وقت سورج نکلنے کے بعد لی گئی نیند زیادہ تر کچی اور ہلکی نیند ہوتی ہے۔ اسی لیے چاہے دوپہر بارہ بجے تک بھی سوتے رہیں، جسم کی گہری نیند نہ ہونے کی وجہ سے ہڈیاں درد کرتی ہیں۔ سر میں بوجھ رہتا ہے اور دن بھر خود کو ادھورا سا محسوس کرتے رہتے ہیں۔ اگلی رات پھر سے وہی روٹین چلتی ہے اور جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی طور پر بندہ کمزور محسوس کرنے لگتا ہے۔
ایسے حالات میں کیا کیا جائے؟
جب میں نے اپنے معمولات کا بغور جائزہ لیا تو ایک واضح فرق کھل کر سامنے آیا۔
جب کبھی میں سارا دن گھر پر بیٹھا رہوں یا صوفے پر پڑے پڑے موبائل چلاتا رہوں اور کوئی فزیکل سرگرمی نہ کروں، اس رات نیند سب سے زیادہ تنگ کرتی ہے۔ لیکن جس دن شام کو دوستوں کے پاس جاؤں، تھوڑی واک کروں یا اسنوکر کے فریم کھیلوں (جو کہ میرا سب سے پسندیدہ مشغلہ ہے)، اس رات منظر بالکل بدل جاتا ہے۔
اس کے پیچھے ایک سادہ سی سائنسی حقیقت ہے:
- سارا دن اسکرین دیکھ کر پیدا ہونے والی تھکن مصنوعی ذہنی تھکن ہوتی ہے، جس میں اعصاب تو الجھے ہوتے ہیں لیکن جسم حرکت نہ کرنے کی وجہ سے بالکل جام پڑا ہوتا ہے۔
- دوسری طرف، جب شام کو واک کرتے ہیں، کرکٹ کھیلتے ہیں یا اسنوکر ٹیبل کے گرد گھومتے ہوئے پوزیشنز بناتے ہیں، تو جسم کے پٹھے قدرتی طور پر حرکت میں آتے ہیں۔
- اس فزیکل سرگرمی سے جسم میں قدرتی اینڈورفنز (Endorphins) پیدا ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ کو فوراً زائل کر دیتے ہیں۔ رات کو جسم میں ایک حقیقی جسمانی تھکن پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے بستر پر سر رکھتے ہی بندہ گہری نیند میں سو جاتا ہے۔
بکھری ہوئی نیند کو سمیٹنے کا 7 روزہ پریکٹیکل روڈ میپ
اپنے پچھلے بلاگ میں بھی میں نے 7 روزہ پلان شئیر کیا تھا، جس میں اسکرین سے دور رہنے کی پلاننگ بتائی تھی۔ آج اس بلاگ میں اپنی نیند کو بہتر کرنے کا 7 روزہ پلان شئیر کروں گا۔
اگر آپ بھی رات کے اس بوجھ اور صبح کی سست روٹین سے تنگ آ چکے ہیں، تو صرف ارادے باندھنے سے کچھ نہیں ہونے والا۔ میں نے اس پر قابو پانے کے لیے ایک عملی ہفتہ وار پلان ترتیب دیا ہے، جسے آپ بھی میرے ساتھ آزما کر دیکھیں، شاید کوئی بہتری آ جائے:
مرحلہ 1: جاگنے کا وقت فکس کرنا ہے (دن 1 اور 2)
سونے کے وقت کو کنٹرول کرنا شروع میں مشکل ہوتا ہے، لیکن جاگنے کا وقت مکمل طور پر ہمارے اپنے کنٹرول میں ہے۔
- پہلے دو دن خود پر یہ اصول لاگو کرنا ہے کہ چاہے رات کو جب بھی نیند آئے، صبح کا الارم ایک مخصوص وقت پر (مثلاً صبح 7 بجے) سیٹ کرنا ہے۔۔ الارم بجتے ہی بستر سے فوری اٹھ جانا ہے، چاہے رات صرف 4 گھنٹے نیند ہی کیوں نہ ملی ہو، ویسے میں صبح 10 بجے کا الارم لگاتا ہوں، ہاہاہا۔
- دن کے وقت سونے کی غلطی بالکل نہیں کرنی۔ شروع میں پہلا دن بھاری گزرے گا، لیکن رات ہوتے ہوتے جسم اتنی شدید نیند مانگے گا کہ معمول سے دو گھنٹے پہلے سونے پر مجبور ہو جائیں گے۔
مرحلہ 2: صبح کی پہلی دھوپ کا سامنا (دن 3 اور 4)
- صبح آنکھ کھلنے کے فوراً بعد پہلے 15 سے 20 منٹ کے اندر باہر نکلنا ہے اور صبح کی قدرتی دھوپ لینی ہے نا کہ موبائل پکڑ کر نوٹیفیکیشز دیکھنے لگا جانا ہے۔
- جب صبح کی نرم روشنی آنکھوں کے پردے سے ٹکراتی ہے تو دماغ کا سرکیڈین کلاک بالکل زیرو پر ری سیٹ ہو جاتا ہے۔ دماغ فوری طور پر کورٹیسول پیدا کرتا ہے اور اپنے اندر ایک اندرونی ٹائمر سیٹ کر لیتا ہے کہ ٹھیک 14 سے 16 گھنٹے بعد اس نے دوبارہ نیند کا ہارمون میلاٹونن خارج کرنا ہے۔
مرحلہ 3: رات کی روشنی اور چائے کا کٹ آف (دن 5 اور 6)
دو عادات کو سختی سے مانیٹر کرنا ہے:
- شام کے بعد کڑک چائے یا کیفین بند: اکثر لوگ رات کے کھانے کے بعد کڑک چائے یا کوفی پیتے ہیں، بغیر یہ سوچے کہ کیفین جسم کے اندر 6 سے 8 گھنٹے تک رہتی ہے اور دماغ کے نیند والے ریسیپٹرز کو بلاک کر کے رکھتی ہے۔
- کمرے کی لائٹس: سونے سے ایک گھنٹہ پہلے کمرے کی تیز سفید لائٹس بند کر کے کوئی ہلکی زیرو واٹ یا پیلی روشنی والی مدہم لائٹ آن کریں، تاکہ دماغ کو قدرتی اندھیرے کا احساس ہونے لگے۔
مرحلہ 4: بیڈ روم کا ٹھنڈا اور پرسکون ماحول (دن 7)
- بیڈ روم کو صرف اور صرف سونے کی جگہ بنا کر رکھیں، اسے ورک اسٹیشن یا سینیما مت بنائیں۔ بستر پر بیٹھ کر کام کرنا یا گھنٹوں فضول میں بیٹھنا چھوڑ دیں۔
- کمرے کو جتنا ہو سکے خاموش، تاریک اور قدرے ٹھنڈا رکھیں، کیونکہ انسانی جسم کا درجہ حرارت جب معمولی سا گرتا ہے تو گہری نیند خودبخود حاوی ہونے لگتی ہے۔
خراب سلیپ روٹین بمقابلہ متوازن سرکیڈین لائف، کیا بہتر ہے؟
پہلے کیسا ہوتا تھا اور یہ 7 دن کا پلان فالو کرنے سے کیسا ہوگا؟
رات کا اختتام: پہلے رات گئے تک بستر پر تیز نیلی اسکرین اور اندھیرے میں آنکھوں پر دباؤرہتا تھا۔ اب سونے سے ایک گھنٹہ پہلے لائٹس مدہم، فون کمرے کے دوسرے کونے میں چارجنگ پر اور گردن کو بالکل پرسکون سپورٹ پر رکھنا ہوگا۔
سونے کی کیفیت: پہلے گھنٹوں کروٹیں بدلنا اور غیر ضروری خیالات کا بوجھ رہتا تھا۔ اب شام کی واک یا کھیل کے بعد بستر پر جاتے ہی پندرہ بیس منٹ میں پرسکون اور گہری نیند آئے گی۔
صبح کا آغاز: پہلے الارم بجنے پر بیزاری، گردن اور سر میں شدید درد رہتا تھا۔ اب وقت پر بغیر کسی جھٹکے کے آنکھ کا کھلنا، چہرے پر تازگی اور دن کے کاموں کے لیے تیار توانائی محسوس ہوا کرے گی۔
دن بھر کی کارکردگی: پہلے دوپہر تک برین فوگ، سستی اور دھیان الجھا سا رہتا تھا۔ اب مستقل یکسوئی، کام کرنے میں روانی اور بلاگز لکھنے میں بہترین فوکس۔
ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں کم سونے اور دیر تک کام کرنے کو ایک غلط فیشن بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ پر لوگ کہتے ہیں کہ جب دنیا سو رہی ہوتی ہے، ہم اس وقت محنت کرتے ہیں۔ لیکن بطور ہومیوپیتھک ڈاکٹر اور اپنے ذاتی تجربے سے میں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ کی صحت، آپ کے پٹھے، آپ کی آنکھیں اور آپ کا اعصابی نظام ہی جواب دے جائیں، تو راتیں اور نیند برباد کر کے کی گئی محنت کسی کام نہیں آئے گی۔ قدرت کے بنائے ہوئے حیاتیاتی اصولوں سے ٹکرا کر کوئی انسان تندرست رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
جب آپ وقت پر سوتے ہیں اور صبح پرسکون اٹھتے ہیں تو نہ صرف آپ کا مزاج خوشگوار رہتا ہے، بلکہ آپ کی تخلیقی صلاحیت اور روزمرہ کے فیصلے بھی کہیں بہتر ہو جاتے ہیں۔
امید ہے کہ میرا یہ ذاتی تجربہ، میڈیکل سائنس کے حقائق اور یہ روڈ میپ آپ کے لیے کارآمد ثابت ہوگا۔ میرے ساتھ ساتھ آپ کو بھی اپنی بکھری ہوئی نیند کو سدھارنے کی ترغیب دے گے۔
اب آپ بتائیں: کیا آپ بھی راتوں کو جاگنے والے نائٹ اؤل بنے ہوئے ہیں یا وقت پر سونے کی کوشش کرتے ہیں؟ اور صبح اٹھ کر آپ کو سب سے زیادہ کس چیز کی تھکن یا درد محسوس ہوتا ہے؟
RE: How to Beat Extreme Sleep Debt: [7 Days] to Reset Clock?