ذریعے وہ براہ راست لندن جاسکتے تھے۔ عام طور پر یہ لوگ ویسے بھی بزنس یا کلب کلاس میں سفر کرتے ہیں، جس کی ٹکٹس بآسانی دستیاب ہوتی ہیں۔
لندن اور پاکستان میں پانچ گھنٹے کا فرق ہے، یوں جس دن عدالت میں پیشی بھگتی تھی، اسی دن رات گیارہ سے ایک بجے کے درمیان، یا پھر اگلی صبح سات بجے سے قبل لندن پہنچا جاسکتا تھا۔
ہیتھرو ائیرپورٹ سے انہیں ریسیو کرنے کیلئے لیموزین سے لے کر بی ایم ڈبلیو گاڑیاں بمع ڈرائیور دستیاب ہوتیں، ناشتہ وغِیرہ حسین نواز کی پہلی یا دوسری بیوی تیار کرکے ڈرائیور کے ہاتھ بھجوا دیتی، یوں لندن ائیرپورٹ سے یہ باپ بیٹی سیدھے اس ہاسپٹل جاسکتے تھے جہاں کلثوم نواز ان کی راہ تک رہی ہوتی۔
سارا دن وہاں گزارتے، شام کو اپنے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں آجاتے، تھکن اتارتے، نوازشریف اپنے پوتے پوتیوں سے ملتا، مریم نواز اپنے بیٹے جنید صفدر سے مل لیتی، رات فلیٹ میں گزارتے، اگلی صبح پھر واپس ہسپتال پہنچ جاتے۔
اگلے چار دن تک یہی روٹین رکھتے۔ پھر چھٹے دن خاموشی سے ہیتھرو ائیرپورٹ پہنچ جاتے، جس فلائیٹ سے آئے تھے، اسی سے واپس اسلام آباد پہنچ جاتے، ایک دن اسلام آباد میں اپنی تھکن اتارتے، اور پھر اس سے اگلے دن عدالت میں پیشی کیلئے حاضر ہوجاتے۔
یہ سب کام لیکن اس وقت ہوتے جب ان کی نیت واقعی ایک بیمار عورت کی تیمارداری ہوتی۔ جب سیاست رشتے داریوں پر حاوی ہوجائے تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے جو بنت نااہل اور ابوفلیٹاں والی کررہے ہیں۔
کلثوم نواز کو بھی سمجھنا چاہیئے کہ وہ اس وقت اللہ کی پکڑ میں ہے۔ دنیا کی امیر ترین عورت ہو کر بھی وہ اس وقت اکیلی چار بائی سات کے بستر پر ہسپتال میں لیٹی اپنی بیماری کاٹ رہی ہے، نہ اس کی بیٹی پاس، نہ شوہر۔
اللہ سب کو رزق حلال کی توفیق عطا فرمائے اور حرام مال سے دور رکھے - آمین