Q. "If you could ask God ONE question and God would give you an immediate answer what would the question be and what answer would you want to hear?"
سوال "اگر آپ خدا سے ایک سوال پوچھ سکتے ہیں اور خدا آپ کو فوری جواب دے گا تو سوال کیا ہوگا اور آپ کیا جواب سننا چاہیں گے؟"
Disclaimer: This post is actually written in urdu language and the answer is not a direct standard answer which you might be expecting. The answer of mine is based on Muslim's ideologies. This is my first time entering in ecotrain contest.
ڈس کلیمر: یہ پوسٹ دراصل اردو زبان میں لکھی گئی۔ اور نہ ہی جواب براہ راست معیاری جواب ہے جس کی آپ توقع کر رہے ہوں گے۔ میرا جواب مسلمانوں کے نظریات پر مبنی ہے۔
یہ میں پہلی بار ایکوٹرین مقابلے میں حصہ لے رہا ہوں۔
Personal Thoughts: I don't want to merge fiction and religion thus I would like to have a different approach for my answer. Sorry if you think it's a little off topic but it would be based on reality.
ذاتی خیالات: میں فکشن اور مذہب کو ضم نہیں کرنا چاہتا اس لیے میں اپنے جواب کے لیے ایک مختلف انداز اختیار کرنا چاہوں گا۔ معذرت اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ تھوڑا سا موضوع سے ہٹ کر ہے لیکن یہ حقیقت پر مبنی ہوگا۔
If a man ever talks to God, then what question should he ask?
اگر کسی بندہ خدا سے خدا ہم کلام ہو تو اسے کیا سوال پوچھنا چاہیے.
The first answer for the question that Quran tells us is that Allah never speaks directly to any human. It's against His habit and dignity. Yes, Allah spoke to the Prophets through revelations sent through angels or spoke from behind the curtains.
اس کا پہلا جواب جو قرآن مجید میں ہے وہ یہ ہے کہ اللہ پاک کبھی کسی بندہ سے براہ راست ہم کلام نہیں ہوتا. یہ اس کی عادت کے خلاف ہے.
ہاں انبیاء کرام علیہم السلام سے اللہ پاک نے خطاب فرمایا. وحی کے ذریعے سے. یا پردے کے پیچھے سے. یا اپنے کسی فرشتے کو بھیج کر کلام فرمایا.
So far I have the knowledge, no ordinary human with his alive senses has ever been able to talk to God.
میری ناقص معلومات کے مطابق عام انسانوں میں سے کسی نے دنیا میں ہوش و حواس کے ساتھ باری تعالیٰ سے کلام نہیں کیا.
However, there is famous example narrated by Imam Ahmad bin Hanbal. He witnessed a condition in the dream when he did conversation with Lord Almighty . Ahmed asked to God, “What draws you closest to a human being?" Allah replied "My Words." (As Muslims, we have a faith that the verses of Quran are the direct words of Allah without any contamination from any other source).
البتہ اس کی کی ایک مشہور نظیر جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے جب حالت خواب میں باری تعالیٰ کا دیدار کیا اور رب تعالیٰ سے کلام فرمایا تو یہ سوال کیا کہ کون سی چیز بندہ کو آپ سے سب سے زیادہ قریب کرنے والی ہے. تو اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: میرا کلام.
Because Allah is the Lord of the whole universe and everything within, the question that should be asked to Him ought to be in accordance to His dignity. That's why Ahmed asked the way to obtain His closeness, as it is the way to attain eternal peace and success.
یہاں یہ بات ملحوظ نظر رہنی چاہیے کہ اللہ پاک جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے. اس کے شایان شان سوال بھی عالیشان ہونا چاہیے تھا. اور خود رب تعالیٰ نے اپنا سب سے بڑا احسان اپنی رضا کو قرار دیا. کہ اہل جنت کو جب رضائے الٰہی حاصل ہو جائے گی تو اس کے بعد انہیں کسی شے کی حاجت نہ رہے گی.
یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے رضائے الٰہی کے لیے اور اس کے قرب کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے اس سے متعلق سوال کیا.
thanks for helping me in translation from Urdu to English. I have sent you 5 sbi shares for your work as Hadeeya/Gift (I wanted to surprise with this small gift). It might not have been possible without your help to spread it to wider audience. Also I would like to thank everyone of those who helped me brainstorm this post, gave feedback before final publication. Thanks for reading this post.
اردو سے انگریزی میں ترجمہ کرنے میں میری مدد کرنے کا شکریہ۔ میں نے آپ کے کام کے لیے 5 sbi شیئرز بطور حدیہ/تحفہ بھیجے ہیں (میں اس چھوٹے سے تحفے سے سرپرائز دینا چاہتا تھا)۔ اسے وسیع تر سامعین تک پہنچانا آپ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اس کے علاوہ میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے اس پوسٹ کو ذہن نشین کرنے میں میری مدد کی، حتمی اشاعت سے پہلے رائے دی۔ اس پوسٹ کو پڑھنے کے لیے شکریہ۔