خاموشیوں کی زبان سمجھ آ گئی ہمیں
اب شورِ گفتگو سے ڈر لگنے لگا ہے
وہ جو نظر میں ٹھہرے تو کہانی بن گئے
ہم جو گزر گئے تو فقط یاد رہ گئے
کچھ خواب ادھورے رہ گئے آنکھوں کے ساتھ
کچھ لوگ مکمل ہو کے بھی ہمارے نہ ہوئے

Want more views and likes?
Promote your wave in a few clicks and be on top for days. Get up to 4x views!
What's happening
Trending hashtags from the last 24 hours
Who to follow