Published via Ecency

خاموشیوں کی زبان سمجھ آ گئی ہمیں
اب شورِ گفتگو سے ڈر لگنے لگا ہے
وہ جو نظر میں ٹھہرے تو کہانی بن گئے
ہم جو گزر گئے تو فقط یاد رہ گئے
کچھ خواب ادھورے رہ گئے آنکھوں کے ساتھ
کچھ لوگ مکمل ہو کے بھی ہمارے نہ ہوئے

0
Replying to @erey
Replies
There aren't replies yet. Be first!